فقه
| فارسی | اردو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فقه دانش بدست آوردن احکام شرعی فرعی بوسیله روشهای معینی از منابع فقهاست.[۱]
توضیح[ویرایش]احکام شرعی دو دسته هستند:
برای بدست آوردن احکام (اعم از اصلی و فرعی) به کار گیری علوم مختلفی لازم است، که از آنها به عنوان مقدمات اجتهاد نام میبرند.[۴] توضیحاتی در مورد تعریف معروف[ویرایش]قید «شرعی»، احکام عقلی (مانند احکام مطرح در فلسفه) واژه شناسی[ویرایش]واژه فقه به معنی درک کردن ِ و فهمیدن عمیق است [۵][۶] اما از آنجا که مسلمانان علم و فهم از دین را شریفتر از سایر علوم می دانستهاند، فقط فهم دین را فقه نامیدهاند و اینگونه بود که اصطلاح علم فقه به وجود آمد.[۷] منابع فقه[ویرایش]منابع فقه اسلامی عبارتند از مجموعه گزارههایی (اعم از آنکه عقل به این گزارهها پی برده باشد یا فقط توسط شارع بیان شده باشد)که فرد آگاه به علوم لازم (مثل فقه، اصول فقه، علم الحدیث و...) میتواند با استفاده از آنها احکام شرعی فرعی را بدست آورد.[۸] احکام فقهی[ویرایش]در فقه به هر عمل اختیاری که انسان میتواند انجام دهد، یک حکم فقهی را نسبت میدهند[۱۰]. روش تقسیم احکام فقهی از این قرار است:
بنابر این یک فقیه علاوه بر بدست آوردن روش انجام مناسک شرعی از منابع فقه، باید حکم هر کاری را نیز مشخص کند. اما اگر بعد از آنکه در منابع فقهی جستجوی لازم را انجام داد در حرام بودن چیزی شک کرد، با برقراری شرایط اصل برائت اعلام میشود که مسلمانان میتوانند آن کار را انجام دهند.[۱۲] تاریخ فقه[ویرایش]در سالهای نخستین ظهوراسلام، علم فقه معنای مصطلح فعلی را که در کنار سایر علوم حکمت و تفسیر و کلام قرار میگیرد نداشتهاست.[نیازمند منبع]
ساختار کتابهای فقهی[ویرایش]ساختار کتابهای فقهی بطور معمول به دو قسمت اصلی تقسیم شده است[۱۶][۱۷][۱۸]:
سپس هر کدام از این دو قسمت اصلی به چندین بخش که معمولاً آن را باب و یا کتاب مینامند تقسیم میشود. مثلاً بابالقضاء زیر مجموعهای از معاملات (عام) است که در آن به احکام قضاوت پرداخته میشود. بابهای اصلی کتب فقه از این قرار اند:
سبکهای فقهی شیعه[ویرایش]
مکاتب فقهی[ویرایش]در نزد اهل سنت که به بسته بودن باب اجتهاد معتقداند، مذاهب فقهی منحصر در چهار مذهب حنبلی و مالکی و حنفی و شافعی است و از این رو علم فقه در نزد اهل سنت عمدتاً به معنای آموزش و اشاعه مکتب فقهی این چهار پیشوای فقهی اهل سنت است. اما مکتب فقهی شیعه که به مذهب جعفری موسوم است، برای هر مجتهدی و در هر زمانی قدرت استنباط قائل است و در نتیجه معتقد است که باید هر مومن مکلف یا خود مجتهد باشد و یا در فروع فقهی از یک مجتهد واجد شرایط پیروی و تقلید کند.[۲۳] اهل سنت تنها روایات موثقی را که از پیامبر اسلام رسیده، و حاکی از قول یا فعل اوست، به عنوان یکی از منابع استنباط قبول دارند، اما شیعیان در استنباط احکام، علاوه بر عقل، قرآن و سیره پیامبر بر روایاتی که از ائمه اطهار به طور قابل اعتماد رسیده باشد، نیز اتکا میکنند.[۲۴] پانویس[ویرایش]
منابع[ویرایش]
|
فقہ شریعت اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ لغوی معنی [ترمیم]فقہ کا لغوی معنی ہے : ’’کسی شے کا جاننا اور اُس کی معرفت و فہم حاصل کرنا۔‘‘ لفظ "فقہ" قرآن مجید میں [ترمیم]قرآن حکیم میں درج ذیل مواقع پر یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے : 1. وَمَا كَانَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا۟ كَآفَّةًۭ ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍۢ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌۭ لِّيَتَفَقَّهُوا۟ فِى ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُوا۟ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (التوبہ، 9 : 122) ترجمہ: اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ "دین کی فقہ" (سمجھ) حاصل کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انکو ڈر سناتے تاکہ وہ بھی محتاط ہو جاتے۔
ترجمہ: وہ بولے، اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔
’’آپ فرما دیں (حقیقۃً) سب کچھ اللہ کی طرف سے (ہوتا) ہے۔ پس اس قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتےo‘‘
ترجمہ: تو اُن کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی سو وہ (کچھ) نہیں سمجھتے۔ لفظ "فقہ" حدیث نبوی میں [ترمیم]حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی فقہ کا لفظ سمجھ بوجھ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ يُرِدِ اﷲُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ. (بخاری، الصحيح، کتاب العلم، باب من يرد اﷲ به خيرا يفقهه فی الدين، 1 : 39، رقم : 71) ترجمہ: اللہ تعالٰیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
ترجمہ:کہ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے بھاری ہوتا ہے۔ کیونکہ عابد کی عبادت بلا بصیرت ہوتی ہے، اس لیے شیطان کو اسے گمراہی کے گڑھے میں ڈھکیلنا اور شکوک وشبہات کے جال میں پھانسنا بہت آسان ہوتا ہے؛ جب کہ فقیہ اس کی سازشوں اور چالوں سے واقف ہوتا ہے اور وہ اس کے دامِ فریب میں عام طور پر نہیں آتا ہے، صاحب الاشباہ والنظائر نے فقہ کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: لفظ "فقہ" شرعی اصطلاح میں [ترمیم]اسی لئے شرعی اصطلاح میں "فقہ" کا لفظ علمِ دین کا فہم حاصل کرنے کے لئے مخصوص ہے۔ (ابن منظور، لسان العرب، 13 : 522) امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فقہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : الفقه : معرفة النفس، مَالَهَا وما عليها. (الزرکشی، المنثور، 1 : 68) ترجمہ: فقہ نفس کے حقوق اور فرائض و واجبات جاننے کا نام ہے۔
العلم بالأحکام الشرعية العملية من أدلتها التفضيلية. (فواتح الرحموت بشرح مسلم الثبوت:۱/۱۳; البحرالرائق:۱/۶) ترجمہ: احکام فرعیہ شرعیہ عملیہ کو تفصیلی دلائل سے جاننے کا نام فقہ ہے۔ "شرعی احکام" سے مکلف کے افعال پر شریعت کی جانب سے جو حکم اور صفت مرتب ہوتی ہے وہ مراد ہے، جیسے کسی عمل کا فرض، واجب، مستحب یامباح یا اسی طرح حرام ومکروہ ہونا اور تفصیلی دلائل کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ کس دلیل شرعی پر مبنی ہے، کتاب اللہ پر، سنت رسول پر، اجماع پر، یا قیاس وغیرہ پر؛ اسی طرح حکم اور دلیل کے درمیان ارتباط کو جاننا بھی فقہ میں شامل ہے۔ علامہ ابن خلدون نے فقہ کی تعریف میں لکھا ہے:افعال مکلفین کی بابت اس حیثیت سے احکام الہٰی کے جاننے کا نام فقہ ہے کہ وہ واجب ہیں یامحظور، ممنوع وحرام، مستحب اور مباح ہیں یامکروہ۔ (الموسوعۃ الفقہیہ:۱/۱۲)
مندرجہ بالا تعریفات واضح کرتی ہیں کہ فقۂ اسلامی سے مراد ایسا علم و فہم ہے، جس کے ذریعے قرآن و حدیث کے معانی و اشارات کا علم ہو جائے اور احکامات کی مخصوص دلائل کے ذریعے معرفت حاصل ہو، جیسے نماز کی فرضیت کا علم اَقِيْمُو الصَّلٰوۃ کے ذریعے حاصل ہوا، زکوٰۃ کی فرضیت کا علم اٰتُوا الزَّکٰوۃَ کے ذریعے حاصل ہوا۔ علم فقہ کا موضوع [ترمیم]مکلّف آدمی کا فعل ہے جس کے احکام سے اس علم میں بحث ہوتی ہے، مثلاً انسان کے کسی فعل کا صحیح، فاسد، فرض وواجب، سنت ومستحب، یاحلال وحرام ہونا وغیرہ۔ (مقدمہ ابن خلدون:۲/۳۴۱) فقہ کی غرض وغایت [ترمیم]سعادت دارین کی کامیابی اور علم فقہ کے ذریعہ شرعی احکام کے مطابق عمل کرنے کی قدرت۔ (شامی، بیروت:۱/۱۲۰) فقیہہ [ترمیم]فقیہہ (انگریزی: Jurist) اس پیشہ ور کو کہتے ہیں جو قانون کا مطالعہ کرتا ہے یا دوسری صورت میں قانون سے متعلق کوئی رائے تیار کرتا ہے، جو بعد میں صلح و مشورہ کے کام دیتی ہے یا نیا قانون نافذ کرنے میں کام آتی ہے- ضرورت_فقہ [ترمیم]انسان کی مکمل زندگی میں عقائد، عبادات، معاملات اور معاشرت وغیرہ سے متعلق شرعی احکام و مسائل ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں قرآن، حدیث اور صحابہ وغیرہ کے اقوال میں بکھرے پڑے ہیں، اب ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں ہر مسئلہ بلاواسطہ قرآن، حدیث اور آثار صحابہ وغیرہ سے خود ہی تلاش کرلوں گا یہ ایک ناممکن اور بے حد دشوار ہے اس کے ناممکن ہونے کی وجوہات بہت ساری ہیں مثلاً: (۱) انسان کی اپنی اپنی لامتناہی مصروفیات (۲) شریعت کے تمام احکام عربی زبان میں ہیں اور ہر انسان عربی زبان سے واقف نہیں ہوتا اور ہوتا بھی ہے تو اس کے معانی مختلف ہونے کی وجہ سے صحیح معنی تک اس کا پہنچنا دشورا ہوتا ہے (۳) شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں جو آیات قرآني اور احادیثِ صحیحہ سے صراحۃ ثابت ہیں لیکن بعض احکام ایسے ہیں کہ جن میں کسی قدر ابہام و اجمال ہے اور بعض آیات و احادیث ایسی ہیں جو چند معانی کا احتمال رکھتی ہیں اور کچھ احکام ایسے ہیں جو بظاہر قرآن کی کسی دوسری آیت یا کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتی تو وہاں اجتہاد و استنباط سے کام لینا پڑتا ہے اور خود زبان نبوت سے اس کی تائید و تصویب بھی ہوتی ہے (ترمذی، باب ماجاء فی القاضی کیف یقضی،حدیث نمبر:۱۲۴۹) اور اجتہاد و استنباط ہر ايك كے بس كی بات نہیں؛ ایسے موقع پر عمل کرنے والے کے لیے الجھن اور دشواری یہ پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنا عمل شریعت کے مطابق کیسے بنائے؟ کس پر عمل کرے اور کونسا راستہ اختیار کرے؟ اسی الجھن کی وجہ سے خود صحابہ کرام حضورﷺ کی موجودگی میں بلاواسطۂ نبی قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ كچھ خاص صحابہ کرام حضورﷺ کے پاس جاکر قرآنی تعلیمات مستقل طورپر سمجھا کرتے تھے۔ (الاتقان:الفصل فی شرف التفاسیر، النوع الثامن والسبعون:۲/۴۶۸، شاملہ) اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر شخص قرآن و حدیث سے بغیر کسی واسطے کے کوئی مسئلہ اپنے لیے تجویز نہیں کرتا تھا بلکہ جو عالم صحابہ کرام تھے ان سے مسئلہ معلوم کرکے عمل کیا کرتا تھا اسی طرح ہر زمانہ میں ہوتا رہا۔ بہرحال بعض حضرات ہر زمانے میں ایسے رہے جو قرآن و حدیث کے علوم میں ماہر، فہم و بصیرت میں اعلی، تقویٰ اور طہارت میں فائق اور حافظہ و ذکاوت میں اوقع تھے لوگ ان ہی سے مسائل معلوم کرکے عمل کرتے اور اپنی فہم و بصیرت پر بالکل اعتماد نہیں کرتے اور اگر ہر کوئی خود ہی اپنے مسئلہ کو قرآن و حدیث میں تلاش کرنے لگے تو گویا ایسا ہی ہوجائے گا جیسے کہ ہر شخص اپنے مرض کا علاج خود ہی طبی کتابوں میں تلاش کرلے ڈاکٹرس وغیرہ کی اس کو ضرورت ہی نہیں اگر ایسا ہوا تو کیا ہر مریض اپنے مرض کا علاج ان كتابوں ميں تلاش کر پائے گا؟ ہرگز نهيں؛ بلکل اسی طرح دینی و شرعی مسئلہ کو سمجھیں کہ اس کا حل ہر کوئی نہیں کرسکتا۔ بہرحال جو لوگ قرآن و حدیث کو مکمل طور پر سمجھے ہیں اور اپنی مکمل زندگی کو مسائل کے حل کرنے اور قرآن و حدیث کے مطابق اس کو ڈھالنے میں وقف کردیا اور ہر مسئلہ کا جواب قرآن و حدیث اور اس کے مطابق اصول کی روشنی میں بتایا ان میں مقبول چار حضرات کے مکاتب فکر ہوئے ہیں جن کے نام یہ ہیں، حضرت امام ابو حنیفہؒ ،حضرت امام شافعیؒ، حضرت امام مالکؒ اورحضرت امام احمد بن حنبلؒ،ان حضرات کے بعد ان کے شاگرد حضرات ہر ایک کا مسئلہ قرآن و حدیث اور ان حضرات کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق بتلایا کرتے تھے اسی طرح یہی معمول اب تک چلا آیا اور آئندہ بھی چلتا رہے گا (انشاءاللہ)۔ ان چاروں حضرات نے مسائل کے حل کرنے میں جو طرز عمل اختیار فرمایا وہ اس طرح ہے۔ عظمت_فقہ [ترمیم]صاحب الاشباہ والنظائر نے فقہ کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: "الفقۃ أشرف العلوم قدراً وأعظمھا أجرا وأتمھا عائدۃ وأعمھا فائدۃ وأعلاھا مرتبہ یملا العیون نوراً والقلوب سروراً والصدور انشراحاً"۔ (الاشباہ والنظائر کا مقدمہ:۱/۲۰) ترجمہ:علم فقہ تمام علوم میں قدرومنزلت کے اعتبار سے بڑھا ہوا ہے اور اجر کے اعتبار سے بھی اس کا مرتبہ اونچا ہے، علم فقہ اپنے مقام ورتبہ کے اعتبار سے بھی بہت بلند ہے اور وہ آنکھوں کو نور اور جلا بخشتا ہے، دل کو سکون اور فرحت بخشتا ہے اور اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے۔ اور صاحب درمختار نے علم فقہ کی عظمت کا یوں تذکرہ کیا ہے۔ "وخیرعلوم علم فقہ ؛لانہ یکون الی العلوم توسلاً ؛فان فقیھا واحداً متورعاً علی الف ذی زھد تفضل واعتلیٰ ،تفقہ فان الفقہ افضل قائد الی البر والتقوی وأعدل قاصد وکن مستفیدا کل یوم زیادۃ من الفقہ واسبح فی بحور الفوائد"۔ (مقدمہ درمختار:۱/۶) تمام علوم میں قدرومنزلت اور مقام ورتبہ کے اعتبار سے سب سے بہتر علم فقہ ہے، اس لیے کہ علم فقہ تمام علوم تک پہونچنے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے، اسی وجہ سے ایک متقی فقیہ ہزار عابدوں پر بھاری ہوتا ہے، علم فقہ کو حاصل کرنا چاہیے، اس لیے کہ علم فقہ نیکی اور تقویٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہردن علم فقہ سے مستفید ہوتے رہنا چاہیے، اس کے سمندر میں غوطہ زنی کرنا چاہیے۔ فقہ اور عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم [ترمیم](۱) قرآن و حدیث کی بنیاد براہِ راست فرمانِ باری پر ہے، فرق یہ ہے کہ قرآن مجید میں الفاظ و معانی دونوں اللہ تعالٰیٰ کی طرف سے ہیں اور حدیث میں الفاظ اور تعبیر رسول اللہﷺ کی طرف سے ہے؛ پس قرآن و حدیث کا سرچشمہ ذاتِ خداوندی ہے اور واسطہ رسول اللہﷺ کا ہے، اس لیے اس کے ذریعہ جو علم حاصل ہوگا وہ معصوم ہوگا، یعنی غلطیوں اور خطاؤں سے محفوظ اور اجتہاد کے ذریعہ جو احکام اخذ کیے جاتے ہیں، ان میں خطاء کا احتمال موجود ہوتا ہے اور جب محفوظ طریقہ علم موجود ہو تو غیر محفوظ اور غلطی کا احتمال رکھنے والے ذریعہ علم کی ضرورت نہیں رہتی؛ اسی لیے عہدِ نبوی میں احکامِ فقہیہ کا مدار کتاب و سنت پرتھا۔
اس حیثیت سے آپﷺ نے جو بات فرمائی ہو، اس کی حیثیت حکم شرعی کی نہیں ہوگی؛ جیسا کہ آپ نے ابتداءً اہلِ مدینہ کو کھجور میں "تابیر" یعنی کھجور کے مادہ درخت میں نر درخت کے ایک خاص حصہ کو ڈالنے سے منع فرمایا تھا؛ لیکن جب اس کی وجہ سے پیداوار گھٹ گئی تو آپﷺ نے اپنی ہدایت کو واپس لے لیا اور فرمایا: "أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ"۔ تم زیادہ جانتے ہوں اپنے دنیوی معاملہ کو (مسلم،كِتَاب الْفَضَائِلِ،بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَاقَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَاذَكَرَهُ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا،حدیث نمبر:۴۳۵۸، شاملہ، موقع الإسلام) لیکن یہ فرق کرنا بہت دشوار ہے کہ آپ کے کون سے احکام بشری حیثیت سے تھے، اس لیے جب تک اس پر کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو، آپ کے تمام فرمودات اور معمولات کی حیثیت شرعی ہی ہوگی۔
پس آپﷺ نے اجتہاد بھی فرمایا ہے، فرق یہ ہے کہ اگر آپ سے اجتہاد میں کوئی لغزش ہوجاتی تو آپﷺ کو اس پر تنبیہ فرمادیا جاتا؛ اس لیے آپﷺ کا اجتہاد بھی نص کے حکم میں ہے۔
رسول اللہﷺ کی عدم موجودگی میں صحابہؓ کے اجتہاد کے اور بھی متعدد واقعات موجود ہیں۔
والد کی وفات کے بعد لڑکا سوتیلی ماں سے اپنا نکاح کرلیتا تھا؛ اگر وہ خود نکاح نہ کرتا تو اسے یہ حق ہوتا کہ کسی اور سے نکاح کردے اور مہر وصول کرلے یا اسے نکاح کرنے سے روک دے؛ یہاں تک کہ اس کی موت ہوجائے اور یہ اس کے مال کا وارث ہوجائے (احکام القرآن للجصاص:۱/۱۰۶،۲۰۲) قرآن نے اس طریقہ کی مذمت فرمائی اور اس سے منع کردیا۔ (النساء:۱۹،۳۲) نکاح میں دو بہنوں کو جمع کیا جاتا تھا اور غیرمحدود تعداد ازدواج کی اجازت تھی؛ یہاں تک کہ جب غیلان ثقفی مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں، قرآن نے دو بہنوں کو جمع کرنے اور چار سے زیادہ نکاح کرنے کو منع فرمادیا۔ زمانۂ جاہلیت میں منھ بولے بیٹے اور بیٹی کوبھی اپنی اولاد کا درجہ دیا جاتا تھا، نکاح کے معاملہ میں بھی اور میراث کے معاملہ میں بھی، اللہ تعالٰیٰ نے اس کی تردید فرمائی: "وَمَاجَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ" (الأحزاب:۴) زمانۂ جاہلیت میں عورت کے مہر پر ولی قبضہ کرلیتا تھا، قرآن مجید نے کہا کہ عورت کا مہر عورت کو دیا جائے "وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً" (النساء:۶) طلاق کی کوئی تعداد متعین نہ تھی، جتنی چاہتے طلاق دیتے جاتے اور عورت کو نکاح سے آزاد بھی نہ ہونے دیتے(فتح القدیر:۳/۱۳) قرآن نے طلاق کو تین تک محدود کردیا۔ (البقرۃ:۲۳) "ایلاء" سال دوسال کا بھی ہوا کرتا تھا، جو ظاہر ہے کہ عورت کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بات تھی، قرآن مجید نے چار ماہ کی مدت مقرر کردی کہ اگر قسم کھا کر اس سے زیادہ بیوی سے بے تعلق رہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ (احکام القرآن للجصاص:۱/۳۷۰) ظہار یعنی بیوی کو محرم کے کسی عضو حرام سے تشبیہ دینے کو طلاق تصور کیا جاتا تھا (احکام القرآن للجصاص:۳/۴۱۷) قرآن نے اسے طلاق تو قرار نہیں دیا؛ لیکن اس پر کفارہ واجب قرار دیا۔ (المجادلہ:۴۔۲) عدت سال بھر ہوا کرتی تھی، قرآن نے وضع حمل اور غیر حاملہ کے لیے وفات کی صورت میں چار ماہ دس دن اور طلاق کی صورت میں جوان عورت کے لیے تین حیض اور دوسروں کے لیے تین ماہ قرار دی۔ اسلام سے پہلے وارث اور غیر وارث دونوں کے لیے جتنے مال کی چاہے وصیت کرسکتے تھے، اسلام نے وارث کے لیے وصیت کو غیر معتبر قرار دیا اور وصیت کی مقدار ایک تہائی تک محدود کردیا۔ (بیان القرآن، سورۃ البقرۃ: ۱۸۲۔۱۸۰) میراث کا قانون بڑا ظالمانہ تھا، صرف ان مردوں کو جو جنگ میں لڑنے کے قابل ہوتے، انھیں میراث دی جاتی تھی اور نابالغوں کے لیے میراث میں حصہ نہیں تھا، اسلام نے عورتوں اور نابالغ بچوں کو حق میراث عطا کیا۔ عرب سود کو درست سمجھتے تھے، اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اس کو منع کردیا۔ مال رہن کا قرض دینے والا مالک ہوجاتا تھا؛ اگر مقروض نے وقت پر قرض ادا نہیں کیا، اسلام نے اس بات کی تو اجازت دی کہ اگر مقروض قرض ادا نہیں کرے تو بعض صورتوں میں مال کو فروخت کرکے اپنا قرض وصول کرلے اور باقی پیسہ واپس کردے؛ لیکن یہ درست نہیں کہ پورے مال رہن کا مالک ہوجائے۔ (دیکھئے، احکام القرآن للجصاص:۱/۵۱۰) زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ یہ تھا کہ خرید و فروحت کے درمیان اگر بیچی جانے والی شئی کو چھوڑدیا، یا اس پر کنکری پھینک دی تو اس کے ذمہ اس کا خریدنا لازم ہوگیا، جس کو منابذہ، ملامسہ، بیع حصاۃ کہا کرتے تھے، رسول اللہﷺ نے اس طریقہ پر خرید و فروخت کو منع فرمایا (بخاری، حدیث نمبر:۲۱۴۷) بیع ملامسہ وغیرہ کی بعض اور تعریفیں بھی کی گئی ہیں جسے بیع کے لفظ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لوگ کسی سامان کی قیمت کو بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر بولی لگادیتے تھے، اس کو"نجش" کہتے ہیں، آپﷺ نے اس کوبھی منع فرمایا۔ قتل اور جسمانی تعدی میں لوگ صرف قاتل اور ظالم ہی سے بدلہ نہیں لیتے تھے؛ بلکہ اس کے متعلقین اور پورے قبیلہ کو مجرم کا درجہ دیتے تھے، قرآن نے اس کو منع کیا اور صرف مجرم کو سزاوار ٹھہرایا۔ حج میں قریش مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے اور اسے اپنے لیے باعثِ ہتک سمجھتے تھے، قرآن مجید نے سبھوں کو عرفات جانے کا حکم دیا (البقرۃ:۱۹۹) بلکہ وقوفِ عرفہ کو حج کارکنِ اعظم قرار دیا گیا۔ پس زمانۂ جاہلیت کے بہت سے احکام میں شریعتِ اسلامی نے اصلاح کی اور جو رواجات عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھے، ان کو کالعدم قرار دے دیا۔ فقہ اور خلافتِ راشدہ [ترمیم]یہ عہد ۱۱/ہجری سے شروع ہوکر ۴۰/ہجری پرختم ہوتا ہے۔ (۱) اس عہد میں احکامِ شریعت کے اخذ و استنباط کا سرچشمہ قرآن مجید اور حدیثِ نبوی کے علاوہ اجماعِ اُمت اور قیاس تھا؛ چنانچہ حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کو جو خط لکھا، اس میں حسب ذیل نصیحت فرمائی: "جب کتاب اللہ میں کوئی حکم پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کرو، کسی اور طرف توجہ نہ کرو؛ اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے کہ کتاب اللہ میں اس کا حکم نہ ہو، تو رسول اللہﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کرو؛ اگر کتاب اللہ میں نہ ملے اور نہ سنتِ رسول میں، تو جس بات پر لوگوں کا اجماع ہو اس کے مطابق فیصلہ کرو، نہ کتاب اللہ میں ہو، نہ سنتِ رسول میں اور نہ تم سے پہلوں نے اس سلسلہ میں کوئی رائے ظاہر کی ہو، تو اگر تم اجتہاد کرنا چاہو تو اجتہاد کے لیے آگے بڑھو اور اس سے پیچھے ہٹنا چاہو، تو پیچھے ہٹ جاؤ اور اس کو میں تمہارے حق میں بہتر ہی سمجھتا ہوں"۔ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبر، باب اجتہاد الرأی علی الأصول من عدم النصوص، الخ) (۲) حضرت ابوبکرؓ بھی اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ جن مسائل کے بارے میں قرآن و حدیث کی کوئی نص موجود نہ ہو، ان میں اہم شخصیتوں کو جمع کیا جائے اور ان سے مشورہ کیا جائے اور اگر وہ کسی بات پر متفق ہوجائیں تو اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے (سنن دارمی:۱/۵۳، باب الفتیا ومافیھا من الشدۃ) چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر جو اتفاق ہوا، وہ آپ ہی کی پہل پر؛ اسی طرح بعض مسائل پر اجماع منعقد ہونے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سعی کو دخل رہا ہے، جیسے مانعین زکوٰۃ سے جہاد، رسول اللہﷺ کی متروکات میں میراث کا جاری نہ ہونا، رسول اللہﷺ کا آپ کی جائے وفات پردفن کیا جانا، قرآن مجید کی جمع و ترتیب، وغیرہ۔ (۳) چونکہ رسول اللہﷺ کے بعد غیر منصوص مسائل میں اجتہاد کے سوا چارہ نہیں تھا؛ اس لیے صحابہ کے درمیان اختلافِ رائے بھی پیدا ہوا، بعض مواقع پر کوشش کی گئی کہ لوگوں کو ایک رائے پر جمع کیا جائے؛ لیکن اس کے باوجود نقاطِ نظر کا اختلاف باقی رہا، صحابہ کا مزاج یہ تھا کہ وہ اس طرح کے اختلافات کو مذموم نہیں سمجھتے تھے اور پورے احترام اور فراخ قلبی کے ساتھ دوسرے کو اختلاف کا حق دیتے تھے، اس کی چند مثالیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں: حضرت عمر اور عبداللہ بن مسعودؓ کے نزدیک بیوہ حاملہ عورت کی عدت ولادت تک تھی اور غیر حاملہ کی چار مہینے دس روز، حضرت علی اور عبداللہ بن عباسؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ولادت اور چار ماہ دس دنوں میں سے جو مدت طویل ہو وہ عدتِ وفات ہوگی۔ حضرت عمر اور عبداللہ بن مسعودؓ کے نزدیک مطلقہ عورت کی عدت تیسرے حیض کے غسل کے بعد پوری ہوتی تھی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہوتے ہی عدت پوری ہوجاتی تھی، حضرت ابوبکر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ باپ کی طرح دادا بھی سگے بھائیوں کو میراث سے محروم کردے گا، حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس سے اختلاف تھا۔ ایک بڑا اختلاف عراق و شام کی فتوحات کے وقت پیدا ہوا، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ مالِ غنیمت کے عام اُصول کے مطابق اسے مجاہدین پر تقسیم کردیا جائے اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ وغیرہ کی رائے تھی کہ اسے بیت المال کی ملکیت میں رکھا جائے؛ تاکہ تمام مسلمانوں کو اس سے نفع پہنچے اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد اسی پرفیصلہ ہوا۔ حضرت عثمانِ غنیؓ کا فتویٰ یہ تھا کہ خلع حاصل کرنے والی عورت پر عدت واجب نہیں، صرف فراغتِ رحم کو جاننے کے لیے ایک حیض گذارنا ضروری ہوگا، دوسرے صحابہ مکمل عدت گذارنے کو واجب قرار دیتے تھے۔ اس طرح کے بیسیوں اختلاف عہدِ صحابہ میں موجود تھے، کتبِ فقہ اور خاص کر شروحِ حدیث ان کی تفصیلات سے بھری پڑی ہیں اور موجودہ دور کے معروف صاحب علم ڈاکٹر رواس قلعہ جی نے صحابہ کی موسوعات کو جمع کرنے کا کام شروع کیا ہے، اس سے مختلف صحابہ کی فقہ اور ان کا فقہی ذوق اور منہج استنباط واضح طور پرسامنے آتا ہے۔ (۴) حضرت عمرؓ نے لوگوں کو بعض اختلافی مسائل میں ایک رائے پر جمع کرنے کی خاص طور پر کوشش فرمائی؛ چنانچہ بعض مسائل پر اتفاق رائے ہوگیا اور جن میں اتفاق نہیں ہوسکا، ان میں بھی کم سے کم جمہور ایک نقطہ نظر پرآگئے، ان میں سے چند مسائل یہ ہیں: اس وقت تک شراب نوشی کی کوئی سزا متعین نہیں تھی، حضرت عمرؓ نے اس سلسلہ میں اکابر صحابہؓ سے مشورہ کیا، حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص شراب پیتا ہے تو نشہ میں مبتلا ہوتا ہے؛ پھر نشہ کی حالت میں ہذیان گوئی شروع کرتا ہے اور اسمیں لوگوں پر بہتان تراشی بھی کر گزرتا ہے؛ اس لیے جو سزا تہمت اندازی (قذف) کی ہے، یعنی اسی (۸۰) کوڑے، وہی سزا شراب نوشی پر بھی دے دی جانی چاہئے؛ چنانچہ اسی پر فیصلہ ہوا (مؤطا امام مالک، حدیث نمبر:۷۰۹) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے بھی اسی (۸۰) کوڑے کا مشورہ دیا تھا۔ اگر کوئی شخص لفظ بتہ کے ذریعہ طلاق دے، تو اس میں ایک طلاق کا معنی بھی ہوسکتا ہے اور تین طلاق کا بھی؛ چنانچہ ہوتا یہ تھا کہ طلاق دینے والے کی نیت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تھا، حضرت عمرؓ کا احساس یہ تھا کہ بعض لوگ اس گنجائش سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں اور غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ میری نیت ایک طلاق کی تھی، اس لیے انھوں نے اس کے تین طلاق ہونے کا فیصلہ فرمایا۔ رسول اللہﷺ سے نمازِ تراویح کی رکعات کی تعداد صحیح طور پرثابت نہیں ہے؛ کیونکہ آپ نے اس نماز کے واجب ہوجانے کے اندیشے سے دو تین شب کے علاوہ صحابہؓ کے سامنے یہ نماز ادا نہیں فرمائی، مختلف لوگ تنہا تنہا پڑھ لیتے تھے، حضرت عمرؓ نے ایک جماعت بنادی، ان پر حضرت ابی بن کعبؓ کو امام مقرر کیا اور تراویح کی بیس رکعتیں مقرر فرمادیں، جو آج تک متوارثاً چلا آرہا ہے۔ (۵) صحابہ اور خاص کر حضرت عمرؓ نے بعض فیصلے شریعت کی مصلحت اور اس کے عمومی مقاصد کو سامنے رکھ کر بھی کئے ہیں، جیسے: حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں "مولفۃ القلوب" جو زکوٰۃ کی ایک اہم مد ہے، کو روک دیا تھا؛ کیونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور اسلام کی شوکت قائم ہوگئی تھی؛ لہٰذا ان کے خیال میں اب اس مد کی ضرورت باقی نہیں تھی۔ حضرت عمرؓ کے دور میں ایک شدید قحط پڑا کہ لوگ اضطرار کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے، اس زمانہ میں حضرت عمرؓ نے چوری کی سزا موقوف فرمادی؛ اسی طرح حضرت حاطب بن بلتعہ کے غلاموں نے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کی اُونٹنی چوری کرلی، آپؓ نے ان غلاموں کے ہاتھ نہیں کاٹے، حضرت عمرؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس وقت لوگ حالتِ اضطرار میں ہیں اور اضطراری حالت میں چوری کرنے سے حد جاری نہیں ہوگی؛ کیونکہ انسان اختیاری افعال کے بارے میں جواب دہ ہے، نہ کہ اضطراری افعال کے بارے میں۔ حضورﷺ نے بھٹکی ہوئی اُونٹنی کو پکڑنے سے منع فرمایا؛ کیونکہ وہ خود اپنی حفاظت کرسکتی ہے؛ یہاں تک کہ اُس کا مالک اُس کو پالے، حضرت ابوبکر و عمرؓ کے دور میں اسی پر عمل رہا؛ لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے زمانہ میں ایسی اُونٹنی کو پکڑلینے اور بیچ کراس کی قیمت کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا تآنکہ اس کا مالک آجائے (شرح الزرقانی علی المؤطا لمالک:۳/۱۲۹) کیونکہ اخلاقی انحطاط کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ بدقماش لوگ ایسی اونٹنی کو پکڑلیں؛ گویا منشا اونٹنی کی حفاظت تھا، طریقہ کار، زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بدل گیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخصی مرضِ وفات میں اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے، تو شریعت کے عمومی اُصول کا تقاضا تو یہی تھا کہ مطلقہ کو اس مرد سے میراث نہ ملے؛ لیکن چونکہ اس کو بعض غیر منصف مزاج لوگ بیوی کو میراث سے محروم کرنے کا ذریعہ بناسکتے تھے، اس لیے صحابہ نے ظلم کے سد باب کی غرض سے ایسی مطلقہ کو بھی مستحق میراث قرار دیا، حضرت عثمان غنیؓ کا خیال تو یہ تھا کہ اگر عدت ختم ہونے کے بعد شوہر کی موت ہو، تب بھی عورت وارث ہوگی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ عدت کے اندر شوہر کی وفات کی صورت میں عورت کو میراث ملے گی۔ اسی طرح امن و امان اور حفاظتِ جان کی مصلحت کے پیشِ نظر حضرت علیؓ کے مشورہ پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص کے قتل میں ایک جماعت شریک ہو تو تمام شرکاء قتل کئے جائیں گے۔ (۶) صحابہ فروعی مسائل میں اختلاف رائے کو برا نہیں سمجھتے تھے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے؛ اگرکوئی شخص سوال کرنے آئے تو ایک دوسرے کے پاس تحقیق مسئلہ کے لیے بھیجتے تھے اور اپنی رائے پر شدت نہ اختیار کرتے تھے، حضرت عمرؓ سے ایک صاحب ملے اور حضرت علیؓ اور زید بن ثابتؓ کا فیصلہ انھیں سنایا، حضرت عمرؓ نے سن کر کہا: کہ اگر میں فیصلہ کرتا تو اس کے برخلاف اس طرح کرتا، ان صاحب نے کہا کہ آپ کو تو اس کا حق اور اختیار حاصل ہے؛ پھر آپ اپنی رائے کے مطابق فیصلہ فرمادیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس اللہ، رسول کا حکم ہوتا تو میں اس کو نافذ کردیتا؛ لیکن میری بھی رائے ہے اور رائے میں سب شریک ہیں؛ چنانچہ انھوں نے حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ کے فیصلہ کو برقرار رکھا: "والرأی مشترک فلم ینقص ماقال علی وزید"۔ (اعلام الموقعین:۱/۵۴) فقہاءِ صحابہ کے درمیان اختلافِ رائے کے مختلف اسباب [ترمیم](الف)قرآن وحدیث کے کسی لفظ میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال، جیسے قرآن نے تین "قرؤ" کوعدت قرار دیا ہے "قرأ" کے معنی حیض کے بھی ہیں اور طہر کے بھی؛ چنانچہ حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم نے اس سے حیض کا معنی مراد لیا اور حضرت عائشہ، حضرت زید بن ثابتؓ نے طہر کا۔
حضرت فاطمہؓ بنت قیس نے روایت کیا کہ مطلقہ بائنہ عدت میں نہ نفقہ کی حق دار ہے، نہ رہائش کی، حضرت عمرؓ نے سنا تو اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں ایک عورت کی بات پر نہ معلوم کہ اس نے یاد رکھا یا بھول گئی، کتاب اللہ اور سنتِ رسول کو نہیں چھوڑ سکتاــــــ حضرت عمرؓ کو خیال تھا کہ یہ فاطمہ بنت قیس کا وہم ہوسکتا ہے؛ کیونکہ قرآن (الطلاق:۱) میں مطلقہ کے لیے رہائش فراہم کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے روایت کیا کہ مردہ کو اس کے لوگوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، حضرت عائشہؓ نے اس پر نکیر فرمائی اور کہا کہ یہ قرآن کے حکم "وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى" (فاطر:۱۸) یعنی"ایک شخص پردوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں ہوگا" کے خلاف ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا کہ جنازہ کو اُٹھانے والے پر وضو واجب ہے، حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے سوال کیا کہ کیا سوکھی ہوئی لکڑیوں کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ پھر تو گرم پانی سے غسل کیا جائے تو اس سے بھی وضو واجب ہوجائے گا؟ اس طرح کی بہت سی مثالیں صحابہ کے درمیان باہمی مناقشات کی پائی جاتی ہیں، جن سے ظاہر ہے کہ مسائل شرعیہ کو اخذ کرنے کے سلسلہ میں دونوں طرح کا ذوق پایا جاتا تھا اور یہی ذوق بعد کو فقہاء مجتہدین تک منتقل ہوا اور اس کی وجہ سے الگ الگ دبستانِ فقہ وجود میں آئے۔ (۹) اس عہد میں سب سے اہم کام حضرت ابوبکرؓ کے عہدِ خلافت میں سرکاری طور پر قرآن مجید کی جمع وت دوین کا اور حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرأت قریش پر مصحفِ قرآنی کی کتابت اور اس کی اشاعت کا ہوا، حضرت عمرؓ کے دل میں جمع احادیث کا داعیہ بھی پیدا ہوا؛ لیکن انھوں نے کافی غور و فکر اور تقریباً ایک ماہ استخارہ کرنے کے بعد اس کا ارادہ ترک کردیا کہ کہیں یہ قرآن مجید کی طرف سے بے توجہی اور بے التفاتی کا سبب نہ بن جائے۔ (تاریخ التشریع الاسلامی لخضری بک:۱۷۱) (۱۰) یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ صحابہ سب کے سب فقیہ و مجتہد تھے؛ بلکہ ایک محدود تعداد ہی اس جانب متوجہ تھی؛ کیونکہ استعداد و صلاحیت کے فرق کے علاوہ دین کے بہت سے کام اور وقت کے بہت سے تقاضے تھے اور سب کے لیے افرادِ کار کی ضرورت تھی، علامہ ابن قیمؒ نے ان صحابہ کا ذکر کیا ہے، جن سے فتاویٰ منقول ہیں، مرد و خواتین کو لےکر ان کی تعداد ۱۳۰/ہوتی ہے؛ پھر ان کے تین گروہ کئے ہیں، ایک وہ جن سے بہت زیادہ فتاویٰ منقول ہیں، ان کی تعداد سات ہے، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ، خلیفہ مامون کے پڑ پوتے ابو بکر محمد نے صرف حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے فتاویٰ کو جمع کیا تو ان کی بیس جلدیں ہوئیں۔ بیس صحابہؓ متوسطین میں شمار کئے گئے ہیں، جن سے بہت زیادہ نہیں؛ لیکن مناسب تعداد میں فتاویٰ منقول ہیں اور بقول ابنِ قیمؒ ان کے فتاویٰ کو ایک چھوٹے جزء میں جمع کیا جاسکتا ہے، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت اُم سلمہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ وغیرہ اسی گروہ میں ہیں، بقیہ صحابہ وہ ہیں جن سے ایک دو مسئلہ میں فتویٰ دینا منقول ہے، ان کی تعداد (۱۲۵) ہے؛ اسی گروہ میں حضرت حسن و حسین، سیدۃالنساء حضرت فاطمہؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت صفیہؓ، حضرت اُم حبیبہؓ، حضرت میمونہؓ، حضرت بلالؓ، حضرت عباد اور حضرت اُمِ ایمن ؓ وغیرہ ہیں۔ (دیکھئے اعلام الموقعین:۱/۱۲۔۱۴) اصاغر صحابہؓ اور اکابر تابعین [ترمیم]یہ مرحلہ حضرت معاویہؓ کی امارت سے شروع ہوتا ہے اور بنواُمیہ کی حکومت کے خاتمہ کے قریبی زمانہ تک کا احاطہ کرتا ہے، اس عہد میں بھی بنیادی طور پراجتہادواستنباط کا وہی منہج رہا جوصحابہ نے اختیار کیا تھاــــ اس عہد کی چند خصوصیات قابل ذکر ہیں: (۱) فقہاء صحابہ کسی ایک شہر میں مقیم نہیں رہے؛ بلکہ مختلف شہروں میں مختلف صحابہؓ کا ورود ہوا، وہاں لوگوں نے ان سے استفادہ کیا اور اس شہر میں ان کی آراء اور فتاویٰ کوقبولیت حاصل ہوئی، مدینہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ، مکہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور ان کے تلامذہ مجاہد بن جبیرؒ، عطاء بن ابی رباحؒ، طاؤس بن کیسانؒ، کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور ان کے شاگردانِ باتوفیق، علقمہ، نخعیؒ، اسود بن یزیدؒ اور ابراہیم نخعیؒ، بصرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ، حضرت حسن بصریؒ، حضرت انس بن مالکؓ اور ان کے شاگرد محمدبن سیرینؒ، شام میں حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ اور ان صحابہؓ سے استفادہ کرنے والے تابعین، ابوادریس خولانیؒ؛ اسی طرح مصر میں حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ اور ان کے بعد یزید بن حبیبؒ وغیرہ کے فتاویٰ کوبقول حاصل ہوا۔ (اعلام الموقعین:۱/۲۱، اور اس کے بعد، فصل:الائمۃ الذین نشر والدین والفقہ) (۲ )صحابہ اور فقہاءِ تابعین کے مختلف شہروں میں مقیم ہونے کی وجہ سے فقہی مسائل میں اختلافاف کی بھی کثرت ہوئی؛ کیونکہ ایک توخلافتِ راشدہ میں خاص کر حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت تک اہل علم یکجا تھے یاایک دوسرے سے قریب واقع تھے، اس کی وجہ سے بہت سے مسائل میں اتفاق رائے ہوجاتا تھا، اب عالم اسلام کا دائرہ وسیع ہوجانے، دراز شہروں میں مقیم ہونے اور ذرائع ابلاغ کے مفقود ہونے کی وجہ سے اجتماعی اجتہاد کی جگہ انفرادی اجتہاد کا غلبہ تھا، دوسرے مختلف شہورں کے خالات، رواجات، کاروباری طریقے اور لوگوں کے فکری وعملی رحجانات بھی مختلف تھے، اس اختلاف کا اثر مختلف شہروں میں بسنے والے فقہاء کے نقطہ نظر پربھی پڑتا تھا؛ اس لیے بمقابلہ گذشتہ ادوار کے، اس دور میں اختلافِ رائے کی کثرت ملتی ہے۔ (۳) یوں تواکابرِ صحابہ میں بھی دونوں طرح کے فقہاء پائے جاتے تھے، ایک وہ جن کی نگاہ حدیث کے ظاہری الفاظ پر ہوتی تھی، دوسرے وہ جومعانی حدیث کے غواص تھے اور احکامِ شرعیہ میں شریعت کی مصالح اور لوگوں کے احوال کوبھی پیشِ نظر رکھتے تھے، تابعین کے عہد میں یہ دونوں طریقہ اجتہاد اور ان کے طرزِ استنباط کا تفاوت زیادہ نمایاں ہوگیا، جولوگ ظاہر حدیث پرقانع تھے وہ "اصحاب الحدیث" کہلائے اور جونصوص اور ان کے مقاصد ومصالح کوسامنے رکھ کررائے قائم کرتے تھے وہ "اصحاب الرائے" کہلائے، اصحاب الحدیث کا مرکز مدینہ تھا اور اصحاب الرحائے کا عراق اور خاص طور پرعراق کا شہرکوفہ، گومدینہ میں بعض ایسے اہل علم موجود تھے، جواصحاب الرائے کے طریقہ استنباط سے متاثر تھے، جیسے امام مالکؒ کے استاذ ربیعہ بن عبدالرحمنؒ، جواصحاب الرائے کے طرزِ استنباط میں ماہر ہونے سے "ربیعۃ الرای" کہلائے اور "رائی" ان کے نام کا جزوٹھہرا؛ اسی طرح کوفہ میں امام عامرشراحیل شعبیؒ جوامام ابوحنیفہؒ کے اساتذہ میں ہیں؛ لیکن ان کا منہج اصحاب الحدیث کا تھا۔ اصحاب الرائی اور اصحاب الحدیث کے درمیان دواُمور میں نمایاں فرق تھا، ایک یہ کہ اصحاب الحدیث کسی حدیث کوقبول اور رد کرنے میں محض سند کی تحقیق کوکافی سمجھتے تھے اور خارجی وسائل سے کام نہیں لیتے تھے، اصحاب الرائے اُصولِ روایت کے ساتھ اُصولِ درایت کوبھی ملحوظ رکھتے تھے، وہ حدیث کوسند کے علاوہ اس طور پر بھی پرکھتے تھے کہ وہ قرآن کے مضمون سے ہم آہنگ ہے یااس سے متعارض؟ دین کے مسلمہ اُصول اور مقاصد کے موافق ہے یانہیں؟ دوسری مشہور حدیثوں سے متاعرض تونہیں ہے؟ صحابہ کا اس حدیث پرعمل تھا یانہیں؟ اور نہیں تھاتواس کے اسباب کیا ہوسکتے ہیںـــــــ حقیقت یہ ہے کہ اصحاب الرائی کا منہج زیادہ درست بھی تھا اور دشوار بھی؛ دوسرا فرق یہ تھا کہ اصحاب الحدیث ان مسائل سے آگے نہیں بڑھتے تھے جوحدیث میں مذکور ہوں؛ یہاں تک کہ بعض اوقات کوئی مسئلہ پیش آجاتا اور ان سے اس سلسلہ میں رائے دریافت کی جاتی؛ اگرحدیث میں اس کا ذکر نہیں ہوتا تووہ جواب دینے سے انکار کرجاتے اور لوگ ان رہنمائی سے محروم رہتے، ایک صاحب سالم بن عبداللہ بن عمرؓ کے پاس آئے اور ایک مسئلہ دریافت کیا؛ انھوں نے نے کہا کہ میں نے اس سلسلہ میں کوئی حدیث نہیں سنی، استفسار کرنے والے نے کہا کہ آپ اپنی رائے بتائیں؛ انھوں نے انکار کیا، اس نے دوبارہ استفسار کیا اور کہا کہ میں آپ کی رائے پرراضی ہوں، سالم نے کہا کہ اگراپنی رائے بتاؤں توہوسکتا ہے کہ تم چلے جاؤ اس کے بعد میری رائے بدل جائے اور میں تم کونہ پاؤں۔(تاریخ الفقہ الاسلامی، للشیخ محمد علی السایس:۷۷) یہ واقعہ ایک طرف ان کے احتیاط کی دلیل ہے؛ لیکن سوال ہے کہ کیا ایسی احتیاط سے اُمت کی رہنمائی کا حق ادا ہوسکتا ہے؟ اصحاب الرائی نہ صرف یہ کہ جن مسائل میں نص موجود نہ ہوتی، ان میں مصالح شریعت کوسامنے رکھتے ہوئے اجتہاد کرتے؛ بلکہ جومسائل ابھی وجود میں نہیں آئے؛ لیکن ان کے واقع ہونے کا امکان ہے، ان کے بارے میں بھی پیشگی تیاری کے طور پرغور کرتے اور اپنی رائے کا اظہار کرتے، اسی کو "فقہ تقدیری" کہتے ہیں، اصحاب حدیث اصحاب الرائی کے اس طرزِ عمل پرطعنہ دیتے تھے؛ لیکن آج اسی فقہ تقدیری کا نتیجہ ہے کہ نئے مسائل کوحل کرنے میں قدیم ترین فقہی ذخیرہ سے مدد مل رہی ہے۔ اس وضاحت سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اصحاب الرائی کا کام بمقابلہ اصحاب الحدیث کے زیادہ دُشوار تھا؛ اسی لیے متقدمین کے یہاں "اصحاب الرائی" میں سے ہونا ایک قابل تعریف بات تھی اور مدح سمجھی جاتی تھی، بعد کوجن لوگوں نے اس حقیقت کونہیں سمجھا؛ انھوں نے رائے سے مراد ایسی رائے کوسمجھا جوقرآن وحدیث کے مقابلہ خودرائی پرمبنی ہو، یہ کھلی ہوئی غلط فہمی اور ناسمجھی ہے۔ حجاز کا اصحاب الحدیث کا مرکز بننا اور عراق کا اصحاب الرائی کا مرکز بننا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا، اس کے چند بنیادی اسباب تھے، اوّل یہ کہ حجاز عرب تہذیب کا مرکز تھا، عرب اپنی سادہ زندگی کے لیے مشہور رہے ہیں، ان کی تہذیب میں بھی یہی سادگی رچی بسی تھی، عراق ہمیشہ سے دُنیا کی عظیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے اور زندگی میں تکلفات وتعیشات اس تہذیب کا جزوتھا؛ پھرمسلمانوں کے زیرنگین آنے کے بعد یہ علاقہ عربی اور عجمی تہذیب کا سنگم بن گیا تھا؛ اس لیے بمقابلہ حجاز کے یہاں مسائل زیادہ پیدا ہوتے تھے اور دین کے عمومی مقاصد ومصالح کوسامنے رکھ کراجتہاد سے کام لینا پڑتا تھا؛ یہاں کے فقہاء اگرعلمائے اصحاب حدیث کی طرح منصوص مسائل کے آگے سوچنے کوتیار ہی نہ ہوتے توآخر اُمت کی رہنمائی کا فرض کیوں کرادا ہوتا؟۔ دوسرے دبستانِ حجاز پرحضرت عبداللہ بن عمرؓ وغیرہ صحابہ کی چھاپ تھی، جن کا ذوق ظاہر نص پرقناعت کرنے کا تھااور عراق کے استاذ اول حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جیسے فقہاء تھے، جن پراصحاب الرائی کے طریقہ اجتہاد کا غلبہ تھا، اس لیے دونوں جگہ بعد کے علماء پران صحابہ کے اندرازِ فکر کی چھاپ گھری ہوتی چلی گئی۔ تیسرے اکثرفرقِ باطلہ کا مرکز عراق ہی تھا، یہ لوگ اپنی فکر کی اشاعت کے لیے حدیثیں وضع کیا کرتے تھے، اس لیے علماءِ عراق تحقیق حدیث میں اُصول روایت کے ساتھ ساتھ اُصولِ درایت سے کام لیتے تھے، اس کے برخلاف علماء حجاز کووضع حدیث کے اس فنتہ سے نسبتاً کم سابقہ تھا۔ (۴) اسی دور میں فرقِ باطلہ کا ظہور ہوا اور سیاسی اختلاف نے آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کرلیا، ایک طرف شیعانِ علی تھے جو اہل بیت کوہی خلافت کا مستحق جانتے تھے اور چند صحابہ کوچھوڑ کر تمام ہی صحابہ کی تکفیر کیا کرتے تھے، دوسری طرف ناصبیہ تھے، جواہل بیت پربنواُمیہ کے ظلم وجورکوسند جواز عطا کرتے تھے اور حضرت علیؓ اور اہلِ بیت کوبرا بھلا کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے؛ تاہم ناصبیہ کی تعداد بہت کم تھی اور انھیں کبھی کسی طبقہ میں قبول حاصل نہیں ہوا، تیسرا گروہ خوارج کا تھا، جوحضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ اور بعد کے تمام صحابہ کوقرار دیتا تھا، شیعہ اور خوارج کا مرکز عراق اور مشرق کا علاقہ تھا؛ حالانکہ اس اختلاف کی بنیاد سیاسی تھی؛ لیکن چونکہ لوگوں کے ذہن پرمذہب کی گرفت بہت مضبوط تھی، اس لیے جلد ہی اس اختلاف نے عقیدہ کی صورت اختیار کرلی اور اس کوتقویت پہنچانے کے لیے لوگوں نے روایتیں گھڑنی شروع کردیں؛ پس اسی دور سے وضع حدیث کا فتنہ بھی شروع ہوا۔ (۵) عہد صحابہ میں اکثرلوگ وہ تھے؛ جنھوں نے حضورﷺ کے عمل کواپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؛ اس لیے روایت حدیث کی ضرورت کم پیش آتی تھی، اب چونکہ زیادہ ترصحابہ رخصت ہوچکے تھے اور دوسری طرف فرقِ باطلہ کے نمائندوں نے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑنی شروع کردی تھیں، اس لیے روایتِ حدیث کے سلسلہ میں بمقابلہ گذشتہ دورکے اضافہ ہوگیا۔ (۶) البتہ اس دور میں حدیث یافقہ کی باضابطہ تدوین عمل میں نہ آئی، حضرت عمربن عبدالعزیزؒ نے اس سلسلہ میں کوشش توکی اور گورنرمدینہ ابوبکر محمدبن عمروبن حزم کواس کام کی طرف متوجہ کیا؛ لیکن اس سے پہلے کہ ابن حزم اس خواب کوشرمندہ تعبیر کرتے، خود حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی وفات ہوگئی۔ (۷) اس دور کے اہم فقہاء وارباب افتاء کے نام اس طرح ہیں: مدینہ:اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت ابوہریرہؓ، سعید بن مسیبؓ، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، امام زین العابدین علی بن حسین، عبداللہ بن مسعود، سالم بن عبداللہ بن عمر، سلیمان بن یسار، قاسم بن محمدبن ابوبکر، نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر، محمدبن مسلم ابن شہاب زہری، امام ابوجعفر محمدباقر، ابوالزناد عبداللہ بن ذکوان، یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعۃ الرائے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ مکہ:حضرت عبداللہ بن عباس، امام مجاہد، عکرمہ، عطاء بن ابی رباح۔ کوفہ:علقمہ، نخعی، مسروق، عبیدۃ بن عمروسلمانی، اسود بن یزید نخعی، قاضی شریح، ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر، عامر بن شراحیل شعبی رحمہم اللہ۔ بصرہ:حضرت انس بن مالک انصاریؓ، ابوالعالیہ، رفیع بن مہران، حسن بن ابی الحسن یسار، ابوالثعثاء، جابر بن زید، محمدبن سیرین، قتادہ رحمہم اللہ۔ شام: عبدالرحمن بن غانم، ابوادریس خولانی، مکحول، قبیصہ بن ذویب، رجاء بن حیوٰہ، حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہم اللہ۔ مصر:حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ، مرثد بن عبداللہ بن البزی، یزید بن ابی حبیب رحمہم اللہ۔ یمنل:طاؤس بن کیسان، وہب بن منبہ صنعانی، یحییٰ بن ابی کثیر۔ چوتھا مرحلہـــــــ اوائل دوسری صدی تانصف چوتھی صدی تدوین فقہ کا چوتھا مرحلہ جوعباسی دور کی ابتداء سے شروع ہوکر چوتھی صدی ہجری کے وسط تک محیط ہے، نہایت اہم ہے اور اسے نہ صرف فقہ اسلامی بلکہ تمام ہی اسلامی وعربی علوم وفنون کا سنہرا دور کہہ سکتے ہیں، فقہ اور فقہ سے متعلق جوعلوم ہیں ان کے علاوہ اسی عہد میں تفسیر قرآن کے فن کوکمال حاصل ہوا اور تفسیر طبری جیسی عظیم الشان تفسیر وجود میں آئی، جوآج تک کتبِ تفسیر کا نہایت اہم مرجع ہے؛ اسی عہد میں عربی زبان کے قواعد مرتب ہوئے؛ اسی دور میں عباسی خلفاء کی خواہش پریونانی علوم، منطق اور فلسفہ وغیرہ عربی زبان میں منتقل کیا گیا اور اس کوبنیاد بناکر مسلمان محققین نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیئے اور علم وتحقیق کی دنیا میں اپنی فتح مندی کے علم نصب کئے اور فقہ کے لیے تویہ دور نہایت ہی اہم ہے۔ اس دور کی چند اہم خصوصیات اس طرح ہیں: (۱ ) یوں تورسول اللہﷺکے عہدِ مبارک ہی سے حدیث کی جمع وکتابت کا کام شروع ہوچکا تھا؛ لیکن کتابی انداز پراس کی ترتیب عمل میں نہیں آئی تھی؛ بلکہ مختلف لوگوں نے اپنی اپنی یادداشتیں لکھ رکھی تھیں، سب سے پہلے احادیث کوباضابطہ طور پرجمع کرنے کا خیال حضرت عمررضی اللہ عنہ کو اور ان کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کوآیا؛ لیکن حضرت عمرؓ نے اسے مناسب نہ سمجھا اور حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کی اس کام کی تکمیل سے پہلے ہی وفات ہوگئی، اب عباسی دور میں باضابطہ حدیث کی تدوین کا کام شروع ہوا۔ یہ تدوین تین مرحلوں میں انجام پائی، پہلے مرحلہ میں حضورﷺ کی احادیث اور صحابہؓ کے فتاویٰ اور فیصلے؛ بلکہ کہیں کہیں تابعین کے فتاویٰ بھی ملے جلے جمع کئے گئے، امام ابویوسفؒ اور امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب الآثار اور امام مالک رحمہ اللہ کی مؤطا میں آج بھی اس طریقہ ترتیب کوملاحظہ کیا جاسکتا ہے؛ پھردوسری صدی ہجری کے آخر میں مسانید کا طریقہ مروج ہوا کہ راوی پنی تمام مرویات کوصحابہؓ کے ناموں کی ترتیب سے جمع کرتا اور حدیث کے مضامین وموضوعات سے قطع نظر ایک صحابی کی تمام مرویات ایک جگہ ذکر کی جاتیں، اس سلسلہ کی سب سے ممتاز کتاب "مسندامام احمد بن حنبل" ہے؛ لیکن ان میں صحیح ومستند اور ضعیف ونامعتبر دونوں طرح کی روایتیں مذکور ہوتیں؛ چنانچہ تیسری صدی ہجری میں دواُمور کی رعایت کے ساتھ کتب حدیث مرتب کی گئیں، ایک یہ کہ ان کی ترتیب مضمون کے اعتبار سے ہو اور فقہی ابواب کی ترتیب پرروایتیں جمع کی جائیں، دوسرے یہ کہ نقل حدیث میں صحیح وضعیف کا فرق ملحوظ رکھا جائے اور اپنے گمان کے مطابق صحیح روایتیں نقل کی جائیں، صحاحِ ستہ؛ اسی دور کی یادگاریں ہیں، جن کوکتبِ حدیث میں خاص طور پرقبولِ عام اور شہرت ودوام حاصل ہوا۔ اس وقت جوکتبِ حدیث موجود ہیں، ان میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کی کتاب الآثار، امام مالک رحمہ اللہ کی مؤطا اور امام محمد رحمہ اللہ کی مؤطا اور کتاب الآثار سب سے قدیم کتابیں ہیں، باقی بہت سی کتابیں وہ ہیں کہ ان کے مصنفین کی نسبت سے تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر ملتا ہے؛ لیکن اب دستیاب نہیں ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مسندگوایک قدیم ترین مسند ہے؛ لیکن یہ ان کے تلامذہ کی جمع کی ہوئی ہے نہ کہ خود امام صاحب رحمہ اللہ کی۔ (۲) چونکہ تدوین حدیث کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے پہلے ہی گمراہ فرقوں اور خداناترس افراد واشخاص کی طرف سے وضع حدیث کا قبیح سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا اس لیے کچھ عالی ہمت، اہل علم نے روایت کی تحقیق کواپناموضوع بنایا اور کسی رعایت اور لحاظ کے بغیر مشکوک ونامعتبر راویوں کے احوال سے لوگوں کوباخبر کرنے کی اہم ترین ذمہ داری اپنے سرلی، یہ فن "جرح وتعدیل" کہلاتا ہے؛ اسی دور میں اس فن کی بنیاد پڑی، اس فن کے سب سے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطانؒ (متوفی:۸۹) اسی عہد کے تھے؛ اسی طرح امام عبدالرحمن بن مہدیؒ (متوفی:۱۹۸ھ)، یحییٰ بن معینؒ (متوفی:۲۳۰ھ) اور امام احمد بن حنبلؒ (متوفی:۲۴۱ھ) جواس فن کے اوّلین معماروں میں ہیں؛ اسی خوش نصیب عہد کی یادگار ہیں۔ (۳)مسائل فقہیہ کے استنباط اور اجتہاد میں قرآن مجید کی مختلف قرأتوں کابھی بڑا دخل ہے؛ چنانچہ اس عہد میں قرأت کے فن نے بھی بڑا عروج حاصل کیا اور قراءِ سبعہ نافع رحمہ اللہ (متوفی:۱۶۷ھ)، عبداللہ بن کثیرؒ (متوفی:۱۲۰ھ)، ابوعمروبن علاءؒ (متوفی:۱۵۴ھ)، عبداللہ بن عامرؒ (متوفی:۱۱۸ھ)، ابوبکر عاصمؒ (متوفی:۱۲۸ھ) جن کے تلامذہ میں حفص بن سلیمانؒ ہیں، حمزہ بن حبیب زیارتؒ (متوفی:۱۴۵ھ) اور ابوالحسن کسائی رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۹ھ) اسی عہد کے قراء ہیںــــــ قراء سبعہ پرجن تین قراء کا اضافہ کیا گیا ہے اور ان کوقراءِ عشرہ کہا جاتا ہے، ان کا تعلق بھی اسی عہد سے ہے۔ (۴) اُصولِ فقہ کی باضابطہ تدوین بھی اسی عہد میں ہوئی، کہا جاتا ہے کہ اس موضوع پرامام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی تالیف "کتاب الرائی" کے نام سے تھی؛ لیکن اب اس کا کوئی وجود نہیں، امام محمد رحمہ اللہ کی طرف بھی اُصول کی ایک کتاب اسی نام سے منسوب کی جاتی ہے، یہ بھی دستیاب نہیں؛ لیکن ماضی قریب میں ابوالحسین بصری معتزلی کی کتاب "المعتمد فی اُصول الفقہ" طبع ہوئی ہے، اس کتاب میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کی کتاب کا حوالہ موجود ہے؛ اس لیے حقیقت یہی ہے کہ اس فن کے موسس اوّل امام ابوحنیفہؒ اور ان کے تلامذہ ہیں، اس وقت اس موضوع پرجوقدیم ترین کتاب پائی جاتی ہے، وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی "الرسالہ" ہے۔ یہ نہایت اہم کتاب ہے اور ابتدائی دور کی تالیف ہونے کے لحاظ سے نہایت جامع، واضح اور مدلل تالیف ہے، جس میں قرآن مجید کے بیان کے اُصول، سنت کی اہمیت اور قرآن سے اس کا ربط، ناسخ ومنسوخ، علل حدیث، خبرواحد کی حجیت، اجماع، قیاس، اجتہاد، استحسان اور فقہی اختلافِ رائے کی حیثیت پرگفتگو کی گئی ہے، امام شافعیؒ نے اس کتاب میں استحسان پربہت شدید تنقید کی ہے او ران کا یہی لب ولہجہ "کتاب الام" میں بھی پایا جاتا ہے؛ لیکن یہ تنقید زیادہ ترغلط فہمیـــــــ اوراگراس تنقید کا نشانہ حنفیہ ہوں توـــــــ حنفیہ کے نقطۂ نظر سے ناواقفیت پرمبنی ہے۔ (۵) اس دور میں فقہی اصطلاحات کا ظہور ہوا اور احکام میں فرض، واجب، سنت، مباح اور مستحب جیسی اصطلاحات نے رواج پایا، تابعین کے عہد میں عام طور پر ایسی اصطلاحات قائم نہیں تھیں؛ بلکہ شریعت میں جن باتوں کا حکم دیا گیا، لوگ بلاتفریق اس پرعمل کرتے تھے اور جن باتوں سے منع کیا گیا، بلاکسی فرق کے ان سے اجتناب کرتے تھے۔ (۶) بمقابلہ پچھلے ادوار کے اس عہد میں اجتہاد واستنباط کی کثرت ہوئی، اس کے دوبنیادی اسباب تھے، ایک عباسی حکومت کا علمی ذوق، عباسیوں نے جہاں بغداد جیسا متمدن شہرآباد کیا اور عقلی علوم کوعربی زبان کا جامہ پہنایا، وہیں اسلامی علوم سے بھی ان کواعتناء تھا اور خود خلفاء علمی ذوق کے حامل ہوا کرتے تھے؛ بلکہ بعض دفعہ کسی رائے سے تاثراور غلو کی وجہ سے نقصان بھی ہوتا تھا؛ چنانچہ بعض عباسی خلفاء کے معتزلہ سے متاثر ہونے کی وجہ سے "خلق قرآن کا فتنہ" پیدا ہوا جس کی خوں آشام داستانیں اب بھی تاریخ میں محفوظ ہیں، عباسی خلفاء کوفقہ سے بھی تعلق تھا؛ یہی وجہ ہے کہ منصور اور پھرخلیفہ ہارون رشید نے امام مالک رحمہ اللہ کی مؤطا کوملکی دستور کی حیثیت دینی چاہی؛ لیکن یہ امام مالک رحمہ اللہ کا اخلاص تھا کہ انھوں نے اس سے منع فرمادیا، بعض عباسی خلفاء نے امام مالک رحمہ اللہ سے یہ شکایت بھی کی کہ ان کی کتاب میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور بنو ہاشم کے صحابہ کی مرویات کووہ اہمیت نہیں دی گئی ہے، جودوسرے صحابہ کی مرویات کو دی گئی ہے، امام مالکؒ نے اس پرمعذرت کی کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ کے تلامذہ سے استفادہ کا موقع نہیں ملا۔ یہ ان کے علمی ذوق ہی کی بات تھی کہ ہارون رشید قاضی ابویوسف سے حکومت کے مالیاتی قوانین کے موضوع پرتالیف کا طلب گار ہوتا ہے اور اسی خواہش کے نتیجہ میں ان کی معروف مقبول تالیف "کتاب الخراج" وجود میں آتی ہے اور یہ بھی خلفاء کی علم پروری ہی ہے کہ ان کے عہد میں بغداد ہرفن کے علماء وماہرین کا مرکز وملجا بن جاتا ہے، اس حوصلہ افزائی اور علمی پذیرائی نے علماء کواپنے اپنے فن کوپایہ کمال تک پہنچانے کا حوصلہ دیا۔ دوسرا سبب عالم اسلام کی وسعت تھی، اب مسلمانوں کی حکومت یوروپ میں اسپین سے لے کرایشیاء میں مشرق بعید چین تک تھی، مختلف قوموں، مختلف تہذیبیں، مختلف لسانی گروہ اور محتلف صلاحیتوں کے لوگ عالم اسلام کے سایہ میں تھے اور ان میں بڑی تعداد نومسلموں کی تھی؛ اس لیے لوگوں کی طرف سے سوالات کی کثرت تھی اور اس نسبت سے فقہی اجتہادات کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع ترہوتا گیا؛ اسی عہد میں بڑے بلند پایہ، عالی ہمت اور اپنی ذہانت وفطانت کے اعتبار سے محیرالعقول علماء وفقہاء پیدا ہوئے؛ کیونکہ اس عہد میں اسی درجہ کے اہلِ علم کی ضرورت تھی؛ پھران میں سے بعض بلند پایہ فقہاء نے مستقل دبستانِ فقہ کی بنیاد رکھی اور ان سے علمی تاثر کی وجہ سے اہلِ علم کی ایک تعداد ان کے ساتھ ہوگئی اور اس نے ان کے علوم کی اشاعت وتدوین اور تائید وتقویت کے ذریعہ مستقل فقہی مدارس کووجود بخشا، ان شخصیتوں میں سب سے ممتاز شخصیتیں ائمہ اربعہ کی ہیں۔ (۷) لیکن فقہ کی باضابطہ تدوین کا شرف سب سے پہلے جس شخصیت کو حاصل ہوا، وہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ذات والا صفات ہے؛ اسی لیے امام شافعیؒ نے فرمایا: "مَنْ أَرَادَ الْفِقْهَ فَهُوَعِيَالٌ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ"۔ (الانتقاء لابن عبدالبر:۲۱۰) اس کا اعتراف تمام ہی منصف مزاج علماء نے کیا ہے، حافظ جلال الدین سیوطیؒ، شافعیؒ فرماتے ہیں: "إنہ اوّل من دون علم الشریعۃ ورتبہا ابوابا ثم تبعہ مالک ابن انس فی ترتیب الموطا ولم یسبق أباحنیفۃ احد"۔ (تبیض الصحیفہ:۳۶) ترجمہ:امام ابوحنیفہؒ پہلے شخص ہیں؛ جنھوں نے علم شریعت کی تدوین کی اور اسے باب وار مرتب کیا؛ پھرمؤطا کی ترتیب میں امام مالکؒ نے انھیں کی پیروی کی، امام ابوحنیفہؒ سے پہلے کسی نے یہ کام نہیں کیا۔ علامہ ابن حجرمکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "إِنَّهُ أَوَّلُ من دون عِلْم الْفِقْهَ وَرَتَّبَهُ أَبْوَابًا وَكُتُبًا عَلَى نَحْوِ مَاھُوَعَلَيْهِ الْيَوْمَ، وَتَبِعَهُ مَالِكٌ فِي مُؤَطائہ"۔ (الخیرات الحسان:۲۸) ترجمہ:امام ابوحنیفہؒ پہلے شخص ہیں؛ جنھوں نے علم فقہ کومدون کیا اور کتاب اور باب پر اس کومرتب فرمایا، جیسا کہ آج موجود ہے اور امام مالک نے اپنی مؤطا میں انھیں کی اتباع کی ہے۔
ترجمہ:امام ابوحنیفہ نے اپنا مذہب شورائی رکھا، وہ شرکاءِ شوریٰ کوچھوڑکر تنہا اپنی رائے مسلط نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ تھا کہ بعض اوقات ایک مسئلہ پرایک ماہ یااس سے زیادہ بحث ومباحثہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا؛ چنانچہ موفق رحمہ اللہ ہی رقم طراز ہیں: "کان یلقی مسئلۃ مسئلۃ یقلبہم ویسمع ماعندھم ویقول ماعندہ ویناظرہم شہراً اواکثر من ذالک حتی یستقر احدا لأقوال فیہا"۔ (مناقب ابوحنیفہ:۲/۱۳۳) ترجمہ:امام صاحب ایک ایک مسئلہ پیش کرتے، ان کے خیالات کا جائزہ لیتے اور ان کی بھی باتیں سنتے، اپنے خیالات پیش کرتے اور بعض اوقات ایک ماہ یااس سے زیادہ تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رکھتے؛ یہاں تک کہ کوئی ایک قول متعین ہوجاتا۔
بعض حضرات نے ۶/لاکھ اور بعضوں نے ۱۲/لاکھ سے بھی زیادہ بتائی ہے، مشہور محقق مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ اس تعداد میں ان مسائل کوبھی شامل کرلیا گیا ہے، جوامام کے مقرر کئے ہوئے اُصول وکلیات کی روشنی میں مستنبط کئے گئے تھے۔ (دیکھئے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی سیاسی زندگی:۲۳۵)
امام ابویوسفؒ (متوفی:۱۸۲ھ) محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۹ھ) حسن بن زیادؒ (متوفی:۲۰۴ھ) زفر بن ہذیلؒ (متوفی:۱۵۸ھ) مالک بن مغولؒ (متوفی:۱۵۹ھ) داؤد طائی رحمہ اللہ (متوفی:۱۶۰ھ) مندل بن علیؒ (متوفی:۱۶۸ھ) نصر بن عبدالکریمؒ (متوفی:۱۶۹ھ) عمرو بن میمونؒ (متوفی:۱۷۱ھ) حبان بن علیؒ (متوفی:۱۷۲ھ) ابو عصمہ (متوفی:۱۷۳ھ) زہیر بن معاویہؒ (متوفی:۱۷۳ھ) قاسم بن معن رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۵ھ) حماد بن ابی حنیفہؒ (متوفی:۱۷۶ھ) ہیاج بن بطامؒ (متوفی:۱۷۷ھ) شریک بن عبداللہؒ (متوفی:۱۷۸ھ) عافیہ بن یزیدؒ (متوفی:۱۸۱ھ) عبداللہ بن مبارکؒ (متوفی:۱۸۱ھ) نوح بن دراجؒ (متوفی:۱۸۲ھ) ہشیم بن بشیر سلمیؒ (متوفی:۱۸۳ھ) ابوسعید یحییٰ بن زکریاؒ (متوفی:۱۸۴ھ) فضیل بن عیاضؒ (متوفی:۱۸۷ھ) اسد بن عمروؒ (متوفی:۱۸۸ھ) علی بن مسہرؒ (متوفی:۱۸۹ھ) یوسف بن خالدؒ (متوفی:۱۸۹ھ) عبداللہ بن ادریسؒ (متوفی:۱۹۲ھ) فضل بن موسیٰؒ (متوفی:۱۹۲ھ) حفص بن غیاثؒ (متوفی:۱۹۴ھ) وکیع بن جراحؒ (متوفی:۱۹۷ھ) یحییٰ بن سعید القطانؒ (متوفی:۱۹۸ھ) شعیب بن اسحاقؒ (متوفی:۱۹۸ھ) ابوحفص بن عبدالرحمنؒ (متوفی:۱۹۹ھ) ابومطیع بلخیؒ (متوفی:۱۹۹ھ) خالد بن سلیمانؒ (متوفی:۱۹۹ھ) عبدالحمیدؒ (متوفی:۲۰۳ھ) ابوعاصم النبیلؒ (متوفی:۲۱۲ھ) مکی بن ابراہیمؒ (متوفی:۲۱۵ھ) حماد بن دلیلؒ (متوفی:۲۱۵ھ) ہشام بن یوسفؒ(متوفی:۱۹۷ھ)
امام اوزاعیؒ: ان کا پورا نام ابوعمرعبدالرحمن بن محمدؒ ہے، یمن کے قبیلہ ذی الکاع کی ایک شاخ اوزاع تھی؛ اسی نسبت سے اوزاعی کہلائے، ۸۸ھ میں شام میں پیدا ہوئے سنہ۱۵۷ھ میں وفات پائی، حدیث کے بڑے عالم تھے، اصحاب حدیث کے گروہ سے تعلق تھا اور قیاس سے اجتناب کرتے تھے، شام اور اندلس کے علاقہ میں ان کے مذہب کوقبولیت حاصل ہوئی؛ لیکن جلد ہی ان کے متبعین ناپید ہوگئے۔ (دیکھئے، تذکرۃ الحفاظ للذھبی:۱/۱۷۰،۱۷۲) سفیان ثوریؒ: ابوعبداللہ سفیان بن سعید ثوریؒ سنہ۹۷ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور سنہ۱۶۱ھ میں بصرہ میں وفات پائی، فقہ اور حدیث دونوں پرنظر تھی، عام طور پر ان کی آراء سے قریب ہوتی ہیں، ابتداء امام صاحب سے چشمک تھی؛ پھربعد کوغلط فہمی دور ہوگئی اور امام ابوحنیفہؒ کے قدرداں ہوگئے۔ لیث بن سعدؒ: یہ مصرمیں پیدا ہوئے اور وہیں سنہ۱۷۵ھ میں وفات پائی، کہا جاتا ہے کہ تفقہ میں ان کا درجہ امام مالکؒ اور شافعیؒ سے کم نہیں تھا، خود امام شافعیؒ ان کوامام مالکؒ سے زیادہ فقیہ قرار دیتے تھے؛ لیکن ان کے مذہب کوزیادہ رواج حاصل نہیں ہوسکا اور جلد ہی ختم ہوگیا۔ داؤد ظاہریؒ: ان کا پورا نام ابو سلیمان داؤد بن علی اصفہانی ہے سنہ۲۰۰ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور سنہ۲۷۰ھ میں وفات پائی، ابتدامیں فقہ شافعیؒ کے متبع تھے، بعد میں پھراپنے مسلک کی بنیاد رکھی، ظاہر نص پرعمل کرنے میں غلو تھا اور اسی غلو کی وجہ سے بعض آراء حد معقولیت سے گذرجاتی ہیں، داؤد ظاہریؒ نے بہت سی کتابیں بھی تالیف کی ہیں، اس مکتب فکر کی نمائندہ شخصیت علامہ ابن حزمؒ اندلسی (متوفی:۴۵۶ھ) ہیں؛ جنہوں نے اپنی معروف کتاب "المحلیٰ" لکھ کر اصحاب ظواہر کی فکر کی آراء کومحفوظ کردیا ہے، ابن حزمؒ ہی کی کتاب "الاحکام فی اصول الاحکام" بھی ہے، جس میں اصحاب ظواہر کے اُصولِ فقہ مدون ہیں، پانچویں صدی ہجری تک یہ مذہب پایا جاتا تھا (تاریخ التشریع الاسلامی لحضرمی:۱۸۰) ابنِ خلدون نے لکھا ہے کہ آٹھویں صدی ہجری تک بھی یہ مذہب باقی تھا؛ پھراس کا نام ونشان مٹ گیا، موجودہ دور میں سلفیت کواسی دبستانِ فقہ کا حیاء قرار دیا جاسکتا ہے۔ ابن جریر طبریؒ: ابوجعفر محمدبن جریر طبریؒ سنہ۲۲۴ھ میں طبرستان یں پیدا ہوئے سنہ۳۱۰ھ میں وفات پائی؛ انھوں نے فقہ حنفی، فقہ مالکی اور فقہ شافعی تینوں کوحاصل کیا؛ لیکن کسی کی تقلید نہیں کی اور خود اجتہاد کیا، تفسیرطبری اور تاریخ طبری ان کی معروف کتابیں ہیں، جوبعد کے اہلِ علم کے لیے اولین مرجع کا درجہ رکھتی ہیں؛ اسی طرح فقہی اختلافات پر "کتاب اختلافات الفقہاء" چھپ چکی ہے، ختم ہوجانے والے مذاہب میں اسی کوزیادہ دنوں تک زندگی حاصل رہی اور پانچویں صدی کے نصف تک بہت سے لوگ اس فقہ پرعمل تھے۔ (دیکھئے، تذکرۃ الححفاظ:۲/۲۵۱۔ کتاب الفہرست، لابن ندیم:۳۲۶۔ تاریخ التشریع الاسلامی:۱۸۳) فقہ سقوطِ بغداد تک (۶۵۶ھ) [ترمیم]فقہ کی تدوین و ترتیب کا چوتھا مرحلہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے شروع ہوتا ہے اور ۶۵۶ھ میں سقوطِ بغداد پر ختم ہوتا ہے، جب چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے عالمِ اسلامی کے دارالخلافہ بغداد پر غلبہ حاصل کیا، آخری عباسی خلیفہ کو نہایت بے دردی سے قتل کردیا اور ایسی خوں آشامی اور ہلاکت خیزی کا ثبوت دیا کہ انسانیت سوزی اور قتل و غارت گری کی تاریخ میں کم ہی اس کی مثال مل سکے گی۔ اس عہد کی خصوصیات اس طرح ہیں: (۱) اسی عہد میں شخصی تقلید کا رواج ہوا اور لوگ تمام احکام میں ایک متعین مجتہد کی پیروی کرنے لگے، تقلید کی اس صورت کو مختلف اسباب کی وجہ سے تقویت پہنچی، جن کا تذکرہ مناسب محسوس ہوتا ہے: (الف) بہت سے ایسے لوگ دعویٔ اجتہاد کرنے لگے جو حقیقت میں اس منصب کے اہل نہیں تھے اور وہ اجتہاد کو قرآن و حدیث سے انحراف کا چور دروازہ بنانے لگے، اس لیے دین کے تحفظ اور دفع فساد کے لیے اس زمانہ کے بالغ نظر اور محتاط علماء نے ضروری سمجھا کہ موجودہ حالات میں باب اجتہاد کو بند کردیا جائے اور اُمت کو ان آوارہ خیالوں کے فتنہ سے بچایا جائے۔ (ب) ائمہ مجتہدین کی سعی و محنت سے فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین پایہ کمال کو پہنچ چکی تھی اور ان کی مساعی کی وجہ سے لوگوں کے لیے ہر طرح کے مسائل کا حل موجود تھا؛ اس لیے گذشتہ ادوار میں جس درجہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت تھی اب اتنی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی اور یہ اللہ تعالٰیٰ کا قدرتی نظام ہے کہ جب کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے تو اس طرف لوگوں کی توجہ بھی کم ہوجاتی ہے۔ (ج) بعض مجتہدین کو من جانب اللہ لائق تلامذہ اور لائق ماہرین و متبعین ہاتھ آئے اور انھوں نے اس مجتہد کی آراء و افکار کو نہایت بہتر طور پر مرتب کردیا، اس کی وجہ سے لوگوں میں ان کے اجتہادات کے تئیں قبولِ عام کا رحجان پیدا ہوگیا اور اس طرح ایک مستقل دبستانِ فقہ کی تشکیل عمل میں آگئی، جن فقہاء کو ایسے لائق شاگرد میسر نہیں آئے، ان کی فقہ باضابطہ طور پر مدون نہیں ہو پائی اور آہستہ آہستہ علمی زندگی سے اس کا رشتہ کٹ گیا، اس کی واضح مثال امام اوزاعیؒ اور لیث بن سعدؒ ہیں، جن کو ان کے معاصرین تفقہ کے اعتبار سے بعض ائمہ متبوعین سے بھی فائق قرار دیتے تھے؛ لیکن آج کتابوں میں چند مسائل سے متعلق ان کی آراء مل جاتی ہیں اور بس۔ (د) صحابہ اور تابعین کے عہد میں کسی کو قاضی بنایا جاتا تو اسے ہدایت دی جاتی کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول کو اصل بنائے اور اگر کتاب و سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے، اس سلسلہ میں وہ خط جو حضرت عمرؓ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا حدیث و فقہ اور قضاء سے متعلق اکثر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے، بعد کے ادوار میں یوں ہوا کہ بعض قضاۃ حق اجتہاد کو جور و زیادتی اور کسی فریق کے حق میں طرف داری کا ذریعہ بنانے لگے، اس پس منظر میں حکومتیں جب کسی کو قاضی مقرر کرتیں تو ان کو پابند کردیتیں کہ فلاں مذہب کے مطابق فیصلہ کیا کریں؛ تاکہ فیصلوں میں یکسانیت رہے اور جانب داری کی گنجائش باقی نہ رہے؛ چنانچہ عباسی خلفاء عام طور پر فقہ حنفی پر قاضی مقرر کیا کرتے؛ اسی طرح ترکوں نے بھی عہدۂ قضاء کو احناف کے لیے مخصوص رکھا؛ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے مصر میں اور سلطان محمود سبکتگین رحمہ اللہ اور نظام الملک طوسی نے مشرقی علاقہ کی عدالتوں کو فقہ شافعی کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا، یہ بھی تقلیدِ شخصی کی ترویج کا ایک اہم سبب بنا۔ (ہ)تقلید پر انحصار کا ایک سبب علمی انحطاط بھی تھا، اللہ تعالٰیٰ کا نظام یہ ہے کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق افراد پیدا ہوتے ہیں اور ضرورت جوں جوں کم ہوتی جاتی ہے؛ اس طرح کے افراد بھی کم ہوتے جاتے ہیں؛ یہی دیکھئے کہ روایتِ حدیث کے دور میں کیسے قوی الحفظ محدثین پائے جاتے تھے؛ جنھیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں حدیثیں یاد ہوتی تھیں اور سند و متن صفحہ ذہن پر اس طرح نقش ہوجاتا تھا کہ گویا وہ پتھر پر کندہ کر دیئے گئے ہیں؛ لیکن تدوین حدیث کا کام مکمل ہونے کے بعد پھر اس صلاحیت کے لوگ پیدا نہیں ہوسکے، زمانۂ جاہلیت میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا، تو لوگوں کو شاعروں کی پوری پوری دیوان نوکِ زبان ہوتی تھیں اور اس طرح جاہلیت کا ادب محفوظ ہوسکا، بعد کے ادوار میں ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی مل سکیں؛ اسی طرح جب تک شریعتِ اسلامی کے ایک مکمل نظامِ حیات کی ترتیب و تدوین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق مسائل کے حل کی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو پوری کرنے کے لیے مجتہدانہ بصیرت مطلوب تھی، اجتہادی صلاحیتوں کے لوگ پیدا ہوتے رہے، جب اس کی ضرورت کم ہوگئی تو اس نسبت سے ایسے افراد کی پیدائش بھی کم ہوگئی۔ (۲)تقلید کے رواج نے جو ایک منفی اثر پیدا کیا وہ فقہی تعصب و تنگ نظری اور جدل و مناظرہ کی کیفیت کا پیدا ہوجانا ہے؛ گذشتہ ادوار میں بھی فقہی مسائل میں اختلافِ رائے پایا جاتا تھا؛ لیکن ایک دوسرے سے تعصب کی کیفیت نہیں تھی اور نہ اس کے لیے معرکہ جدل برپا ہوتا تھا، اس دور میں بدترین قسم کی تنگ نظری وجود میں آئی، لوگ اپنے امام کی تعریف میں مبالغہ کی آخری حدود کو بھی پار کرجاتے تھے اور مخالف نقطہ نظر کے حامل امام ذی احترام کی شان میں گستاخی اور بدکلامی سے بھی باز نہیں رہتے تھے؛ یہاں تک کہ ان مذموم مقاصد کے لیے بعض خداناترس لوگوں نے روایتیں بھی گھڑنی شروع کردیں۔ چونکہ عوام میں فقہ حنفی اور فقہ شافعی کو زیادہ رسوخ حاصل تھا؛ اس لیے معرکے بھی انھیں دونوں مکاتب فکر کے درمیان نسبتاً گرم ہوتے تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے بعض اوقات بہت ہی پست حرکات کی جاتی تھیں، سلطان محمود سبکتگین اصل میں حنفی تھا اور کچھ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا، ایک شافعی عالم نے اس کو متاثر کرنے کے لیے اس کے سامنے بے ترتیبی کے ساتھ جیسے تیسے وضو کیا، پھر جلدی جلدی نماز پڑھی اور سلام پھیرنے سے پہلے قصداً وضو توڑنے کا ارتکاب کیا اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی نماز ہے؛ پھر اچھی طرح وضو کیا اور بہتر طریقہ پر نماز ادا کی اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی نماز ہے؛ چنانچہ سلطان محمود نے اس واقعہ سے متاثر ہوکر شافعیت کو اختیار کرلیا اور نقل کرنے والوں کے بہ قول اس حرکت کا ارتکاب کرنے والا کوئی عامی نہیں تھا؛ بلکہ یہ تھے ممتاز شافعی فقیہ قفال شاشی۔ (تاریخ الفقہ الاسلامی، محمدعلی سائس:۱۳۲) اب یہ فقہی تعصبات ہی کا حصہ ہے کہ ہمارے کتابوں میں یہ بحث ملتی ہے کہ حنفی شافعی اور شافعی حنفی کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ رسول اللہﷺ نے تو فاجر کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی اور صحابہ نے تو حجاج بن یوسف کے پیچھے بھی نماز ادا فرمائی؛ لیکن متأخرین کے ہاں یہ ایک سوال بن گیا، احکامِ نماز میں جو اختلافِ رائے مثلاً احناف اور شوافع کے درمیان پایا جاتا ہے، یہ صحابہ کے درمیان بھی تھا اور تابعین و ائمہ مجتہدین کے زمانہ میں بھی تھا؛ لیکن وہ بے تکلف ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے اور یہ بات ان کے یہاں چنداں قابل اعتناء نہیں تھی۔ اسی طرح احناف کے یہاں یہ بحث ملتی ہے کہ شوافع سے نکاح دُرست ہے یا نہیں؟ اور "انا مؤمن انشاء اللہ" (انشاء اللہ میں مؤمن ہوں) کہنے کی وجہ سے کیا ان کو مسلمان سمجھا جائے گا؟ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے لکھ دیا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کیا جائےــــــ یہ کس قدر تعصب انگیز اور مزاجِ دین کے مغائر باتیں ہیں؟ سلفِ صالحین کے زمانہ میں مناظرہ ایک طرح کا تبادلہ خیال ہوتا تھا، جس میں ایک دوسرے کا پورا احترام ملحوظ رکھا جاتا اور جو بات صحیح نظر آتی تھی اسے لوگ قبول کرتے تھے؛ لیکن اس دور میں مناظرہ کے نام پر مجادلہ اور باہمی سب و شتم کا سلسلہ شروع ہوا، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بادشاہوں اور رئیسوں کے دربار اور بڑی بڑی مسجدیں مناظرہ کا اکھاڑہ بن گئی تھیں اور بہت سے جاہل فرماں روا، جیسے مرغوں اور جانوروں کا مقابلہ کراتے اور تماشہ دیکھتے تھے؛ اسی طرح علماء سے مناظرہ کرا کر ان سے لطف لیا جاتا تھا؛ اسی لیے اس عہد کے بہت سے حنفی اور شافعی علماء کے حالات میں خاص طور سے اس کا ذکر ملے گا کہ یہ مذہب مخالف کے فلاں عالم سے مناظرہ کرتے تھے اور یہ کہ مناظرہ میں ان کو بڑا کمال حاصل تھا۔ (۳) اس عہد میں مقلد علماء نے دو اہم کام کئے، ایک تو اپنے دبستانِ فقہ کی آراء کے لیے دلائل کی تلاش اور استنباط؛ کیونکہ اصحاب مذہب سے بہت سے مسائل میں صرف ان کی رائے ملتی تھی اور اس رائے پر دلیل منقول نہیں تھی؛ لہٰذا کچھ تو علمی اور تحقیقی ضرورت اور کچھ مناظروں کی گرم بازاری اور فریق مخالف کی جواب دہی کے پس منظر میں نصوص اور عقل و قیاس سے مذہب کی آراء پر دلیل فراہم کی گئیں؛ دوسرا کام ایک ہی مذہب فقہی کی حدود میں مختلف آراء کے درمیان ترجیح کا ہوا، یہ ترجیح کی ضرورت دو موقعوں پر پیش آتی ہے، ایک اس وقت جب امام سے مختلف راویوں نے الگ الگ رائے نقل کی ہو، اس صورت میں راوی کے استناد و اعتبار کے لحاظ سے ترجیح دی جاتی ہے کہ کونسی نقل زیادہ دُرست ہے؟ اسی بناء پر حنفیہ کے یہاں ظاہر روایت کو نوادر پر، مالکیہ کے ہاں ابن قاسم کی روایت کو ابن وھب، ابن ماجشون اور اسد ابن فرات کی روایت پر اور شوافع کے یہاں ربیع ابن سلیمان کی روایت کو مزنی کی روایت پر مقدم رکھا جاتا ہے، دوسرے اُس وقت جب امام سے ایک سے زیادہ اقوال صحیح و مستند طریقہ پر ثابت ہوں؛ ایسی صورت میں امام کے اصول استنباط اور کتاب و سنت اور قیاس سے موافقت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر بعض اقوال کو ترجیح دی جاتی ہے؛ اس لیے ان میں اختلاف رائے کا پیدا ہونا فطری ہے؛ اسی لیے ایک ہی مذہب کے مختلف مصنفین کے نزدیک اقوال وآراء کی ترجیح میں خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اس دور کا ایک قابل ذکر کام ائمہ مجتہدین کے اقوال کی تشریح و توضیح بھی ہے، یعنی مجمل احکام کی توضیح، بعض مطلق اقوال سے متعلق شرائط و قیود کا بیان اور آراء کی تنقیح ـــــ اس طرح اس عہد میں ائمہ متبوعین کے مذاہب کی تنظیم و تدوین اور توضیح و تائید کا بڑا اہم کام انجام پایا ہے۔ (۴) اس دور کا تذکرہ نامکمل ہوگا؛ اگر اس دور کے اہم فقہاء اور اہلِ علم کا ذکر نہ کیا جائے؛ اس لیے اختصار کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے: حنفیہ: امام ابوالحسن عبداللہ بن حسن کرخی (۲۶۰۔۳۴۰) ابوبکر جصاص رازی (م۳۷۰ھ) ابوجعفر محمدبن عبداللہ بلخی ھندوانی (م۳۶۲ھ) ابواللیث نصر بن محمد سمرقندی، امام الھدیٰ (م۳۷۳ھ) ابوعبداللہ یوسف بن محمد جرجانی (م۳۹۸ھ) ابوالحسن احمد قدوری (م۴۲۷ھ)
ابوعبداللہ حسین صیمری (م۴۳۶ھ) ابوبکر خواہر زادہ بخاری (م۴۳۳ھ) شمس الائمہ عبدالعزیز حلوانی (م۴۱۸ھ) شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی صاحب المبسوط (م۴۸۳ھ) ابو عبداللہ محمد بن علی دامغانی (م۴۰۰ھ۔ ۴۷۸ھ) علی بن محمد بزدوی (م۴۸۳ھ) شمس الائمہ بکر بن محمد زربخری (۴۲۷۔ ۵۱۲ھ)
طاہر بن احمد بخاری (م۵۴۲ھ)
ملک العلماء ابوبکر ابن مسعود کاسانی (م۵۸۷ھ)
علی ابن ابی بکر مرغینانی صاحب ہدایہ (م۵۹۳ھ)
ابوبکر بن عبداللہ المعیطی (م۳۶۷ھ) یوسف بن عمر بن عبدالبر (م۳۸۰ھ) ابو محمد عبداللہ بن اُبی زید قیروانی (م۳۸۶ھ) ابوبکر محمد بن عبداللہ أبھری (م۳۹۵ھ) قاضی عبدالوھاب بغدادی (م۴۲۲ھ) ابوالقاسم عبدالرحمن حضرمی (م۴۴۰ھ) ابوالولید سلیمان باجی (م۴۹۴ھ) ابوالحسن علی لخمی (م۴۹۸ھ) ابوالولید محمدبن رشد قرطبی (م۵۲۵ھ) ابو عبداللہ محمد تمیمی (م۵۲۶ھ) ابوبکر محمد بن عربی صاحب احکام القرآن (م۵۳۶ھ) ابوالفضل قاضی عیاضی (م۵۴۱ھ) محمد بن احمد بن محمد بن ارشد'دبیز متن' صاحب ہدایۃ المجتہد (م۵۹۵ھ)
عبداللہ بن نجم سعدی (م۶۱۰ھ) شوافع: ابواسحاق ابراہیم مروزی (م۲۴۰ھ) ابو علی حسین، المعروف بابن ابی ہریرہ (م۳۴۵ھ) قاضی ابوحامد مروزی (۳۶۲ھ) محمدبن اسماعیل قفال کبیرشاشی (م۳۶۵ھ) ابوالقاسم عبدالعزیزدارکی (۳۷۵ھ) ابوالقاسم عبدالواحد یعمری (۳۸۶ھ) ابوعلی حسین سنجی (۴۰۳ھ) ابو حامد ابن محمداسفرائنی (م۴۰۸ھ) عبداللہ ابن احمدقفال صغیر (م۴۱۷ھ) ابو اسحاق ابراہیم اسفرائنی (م۴۱۸ھ) ابوالطیب طاہرطبری (م۴۵۰ھ) ابوالحسن علی ماوردی (۳۵۰ھ) ابوعاصم محمدمروزی (م۴۵۸ھ) ابو اسحاق ابراہیم شیرازی (م۴۷۶ھ) ابونصر محمدبن صباغ (م۴۷۷ھ) امام الحرمین ابوالمعالی عبدالملک جوینی (م۴۸۷ھ) حجۃ الاسلام ابوحامد محمدعزالی (۴۵۰۔۵۰۵ھ) ابوالقاسم عبدالکریم رافعی (م۶۲۳ھ) محی الدین ابوزکریا نووی (م۶۳۱ھ) فقہ، سقوطِ بغداد تا اختتام تیرہوی صدی [ترمیم]یہ عہد بھی بنیادی طور پر پہلے ہی عہد کے مماثل ہے، جس میں مختلف مسالک کے اہل علم نے اپنے مذہب فقہی کی خدمت کی، مختلف مذاہب سے متعلق متون اور متون پر مبنی شروح و حدیث کی ترتیب عمل میں آئی، فتاویٰ مرتب ہوئے، فتاویٰ سے مراد دو طرح کی تحریریں ہیں، ایک متاخرین کے اجتہادات، دوسرے مستفتیوں کے سوالات کے جوابات اسی طرح علمی اعتبار سے اس دور کی خصوصیات کو تین نکتوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
حنفیہ: ابو البرکات عبداللہ بن احمدنسفی (م۷۱۰ھ) ابومحمدعثمان فخرالدین زیلعی (م۷۴۳ھ) محمدبن عبد الواحد کمال الدین ابن ھمام (م۷۶۱ھ) محمدبن احمد بدرالدین عینی (م۷۶۲۔ ۸۵۵ھ) زین العابدین ابن نجیم مصری (م۹۶۹ھ) شمس الدین محمدبن امیرالحاج حلبی (م۸۷۹ھ) حافظ سیف الدین قطلوبغا (م۷۹۸۔۸۸۱ھ) عمر بن ابراہیم ابن نجیم، صاحب النہرالفائق (م۱۰۰۵ھ) مالکیہ: ابو ضیاء خلیل کردی (م۷۷۶ھ) ابو الحسن نور الدین اجھوری (م۹۶۷۔۱۰۶۶ھ) محمدبن عبداللہ قریشی (م۱۱۱ھ) نورالدین عدوی (م۱۱۲ھ) شوافع: علامہ تقی الدین سبکی (م۶۸۳۔۷۵۲ھ) شیخ الاسلام زکریا انصاری(م۸۲۶۔۹۲۶ھ) شہاب الدین ابن حجر ہیثمی (م۹۰۹۔۹۹۵ھ) حنابلہ: علامہ تقی الدین احمد بن تیمیہ (م۶۶۱۔۷۲۸ھ) شمس الدین ابن قیم جوزی (م۶۹۱۔۷۵۱ھ) فقہ اسلامیــــــ عہدِ جدید میں [ترمیم]فقہ اسلامی کے ارتقاء کے سلسلہ میں جدید دور کا نقطہ آغاز تیرہویں صدی ہجری کے اواخر کو قرار دیا جا سکتا ہے، جب خلافتِ عثمانیہ کے حکم پر "مجلۃ الاحکام العدلیۃ" کی ترتیب عمل میں آئی، اس عہد میں فقہ اسلامی کی خدمت کا ایک رحجان پیدا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں جو کاوشیں ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں، وہ یہ ہیں:
انسائیکلوپیڈیائی کاوشوں میں ڈاکٹر رواس قلعہ جی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انھوں نے عہدِ صحابہ اور عہدِ تابعین کے ان فقہاء کی آراء کو یکجا، منضبط اور مرتب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جن کے اقوال مختلف کتابوں میں بکھرے ہوئے تھے اور سلف کا ایک بہت بڑا علمی اور فقہی ورثہ لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوتا جارہا تھا، ڈاکٹر رواس نے الف بائی ترتیب سے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عائشہ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حسن بصریؒ اور ابراہیم نخعیؒ وغیرہ کی فقہ کو جمع کیا ہے اور اس طرح اہلِ علم کی نئی نسل کو ابتدائی دور کے فقہاء کے اجتہادات سے مربوط کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، فجزاہم اللہ خیرالجزاء۔
(۸) اس عہد سے پہلے عام طور پر فقہی ذخیرہ عربی زبان ہی میں ہوا کرتا تھا، یا چند کتابیں فارسی زبان میں لکھی گئی تھیں؛ لیکن موجودہ عہد میں فقہ کے عربی ذخیرہ کو اُردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کا ذوق پیدا ہوا اور مختلف علاقائی اور عالمی زبانوں میں فقہ کے موضوع پر یا تو ترجمے کئے گئے، یا مستقل طور پر کتابیں لکھی گئیں، ان زبانوں میں اُردو زبان کو اوّلیت کا شرف حاصل ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت اُردو زبان میں علوم اسلامی اور فقہ کا جتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے، عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے؛ بلکہ بعض کتابیں تو ایسی ہیں کہ عربی و انگریزی میں بھی ان کے ترجمے ہوئے اور انھیں قبول عام و خاص حاصل ہوا، ان میں اُصولِ فقہ، تاریخ فقہ، قواعدِ فقہ، فقہ کے تمام ابواب کوجامع اور فقہ کے کسی ایک باب نیز فقہ حنفی، فقہ شافعی اور فقہ سلفی سے متعلق ہر طرح کی کتابیں موجود ہیں۔
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||